چيونٹي کي نصيحت
محمد باقر حيدري ن ح زيدي

حضرت داود ٴکے ١٩بيٹوںميںسے حضرت سلمان ٴکوجانشيني کيلئے منتخب کياگيا،حکم خدا سے نبوت اورامت کي رہبري جيسي عظيم ذمہ دار ي پ کے سپردکي گئي۔

علم وحکمت کے خزانے، پرندوںکي زبان سے واقفیت جيسے مستحکم اورشکار دلائل و معجزات پکو عطاکئے گئے۔ خود حضرت داود ٴ کي طرف سے پکي جانشني کا اعلان کیاگیا ان تمام باتوںکے باوجود بني اسرائيل کے بعض افراد پکي قدر ومنزلت کے بارے ميں مشکوک تھے بعض بزرگان قوم حضرت سليمان ٴکے بھائيوںکو امت کي رہبري کيلئے زيادہ لائق اور شايستہ سمجھتے تھے ۔
اس لئے جناب سليمان ٴکچھ نگران و پريشان دکھائي ديتے تھے ۔ اور ايک ايسے معجزہ کے منتظر تھے، جس کے ذريعہ شک و ترديدکي فضا کو ختم کرکے منکران پر اتمام حجت کي جا سکے اور باقي قوم کو بھي اعتماد ميں ليا جا سکے۔
لھٰذا دھي رات کو بارگاہ خدا وندي ميں عاجزانہ اور عاشقانہ انداز ميں حاضر ہوئے اور دعا کي:’’ بار الھٰا مجھے بخش دے اور مجھے ايسي حکومت عطا کر کہ ميرے بعد ايسي حکومت کسي کو نہ ملے تو بخشنے والا اور مہر بان ہے ‘‘۔
خدا وند عالم نے ان کي اس دعا کو قبول فرمايا اور انہيں بے نظير حکومت عطا کي۔ جنات پر مکمل تسلط عطا کيا کہ پ ٴکے فرمان کے مطابق عمل کريں اور نا فرماني کي صورت ميں سزا کے مستحق پائیں۔ ہوا کو بھي پ کے حکم کا تابع کيا کہ جو پ چاہيں انجام دے اور جدھر چاہيں چلے۔ پ کو انسان ، جنات اور پرندوں کا لشکر تيار کرنے کي قدرت بھي عطا کي گئي۔ نيز زمين کے خزانوں کي چابياں پ کے حوالے کي گئي کہ اپني ضرورت کے مطابق خرچ کريں۔ پ ٴ پر وحي نازل کي گئي ’’ يہ تمام نعمتيں بے حساب ہماري طرف سے عطا ہيں جسے چاہو عطا کرو اور جسے چاہو عطا نہ کرو ‘‘
حضرت سليمان ٴايک نہايت شکر گزار بندے تھے خدا وند جو نعمت بھي پ کو عطا کرتا پ ٴ فوراً اس کا شکر کيا کرتے تھے ۔ اور ہر نعمت سے خداکي مرضي کے مطابق استفادہ کياکرتے تھے۔ خداوند عالم ہر روز جناب سليمان ٴ کي شان و شوکت ميں اضافہ کرتا تھا اور انہيں نئي اور قيمتي نعمت سے نوازتا تھا ۔ من جملہ ايک روز ہوا حضرت سليمان ٴ اور ان کے لشکر کو ايک جگہ سے دوسري جگہ لے جا رہي تھي کہ وحي نازل ہوئي اور ايک نئي نعمت کي بشارت دي ۔
’’خدا وند متعال پ پر درودو سلام بھيجتا ہے اور فرماتا ہے کہ ايک بار تم پرپھر ہم نے اپني نعمتیں زيادہ کر ديں کہ ہوا کو حکم ديا کہ ج کے بعد زمين پر ہر چلنے والے کا کلام پ کے گوش گزار کيا کرے ‘‘۔
ايک روز جناب سليمان ٴ اپنے لشکر کے ہمراہ ہوا کے دوش پر ايک مقام سے دوسرے مقام کي طرف جا رہے تھے کہ پ کا گزر چيونٹيوں کي سر زمين سے ہوا ۔ چيونٹيوں کے سردار نے جب جناب سليمان ٴ اور ان کے لشکر کو تے ديکھا تو اونچائي سے بلند واز ميں کہا ’’ اے چيونٹيوں تم سب اپنے بلوں ميں چلي جاو کہيں ايسا نہ ہو کہ حضرت سليمان ٴ اور ان کا لشکر تمہيں کچل دے اور انہيں اس بات کا احساس تک نہ ہو ‘‘۔
ہوا نے ان کلمات کو جناب سليمان ٴ کے گوش گزار کيا۔ يہ کلمات سن کر جناب سليمان ٴ نے تبسم کيااور ہوا کو حکم ديا کہ انہيں چيونٹيوںکي سرزمين پر اتاراجائے ۔اسکے بعدپ نے پيغام بھيج کر چيونٹيوںکي سردار کو بلا يا اور کہا کيا تمہيں معلوم نہيں ميں اور ميرا لشکر کسي پر ظلم نہيں کرتے؟
جي ہا ںمجھے معلوم ہے ليکن ميں ان کي سردار ہوں اور سردار پر رعايا کو نصيحت کرنا واجب ہے لھٰذا ميں نے ان سے کہاکہ سليمان ٴ اور ان کے لشکر کو تمہارا احساس تک نہ ہوگا تم سب اپنے بلوں ميں چلي جاو ۔
(جناب سليمان ٴ)مگرکياتم نے نہيں ديکھاکہ ميںاورميرا لشکرہواميں پروازکررہے ہيں ۔ پھر کچل جانے کا خوف کيوں پيدا ہوا ؟
(چيونٹيوںکي سردار)اس گفتگوسے ميري مراد کوئي دوسري چيز تھي، ميں اس چيزسے خوف زدہ نہ تھي کہ ہم پ ٴکے زيرپا،روندے جائيںگے۔ بلکہ ميںاس بات سے خوف زدہ تھي کہ کہيںايسانہ ہوکہ پ کے لشکرکوديکھنے ميںاتنے مشغول ہوجائیںکہ يادخداسے غافل ہوجائيں۔ميںاس بات سے خوف زدہ تھي کہ کہيںپ کے لشکرکي عظمت کوديکھنے کے بعددنياان کي نظرميںجلوہ افروزنہ ہوجائے اور خدا کي چاہت کے خلاف وہ دنيا کوچاہنے لگيں اوراس طرح ميدان غفلت ميںحب دنياسے پامال ہو جائيں۔
(حضرت سليمان ٴ) : خداوندعالم نے تجھے بلندوبالاشعورعطاکياہے ،لہٰذامجھے نصيحت کر۔
(چيونٹيوںکي سردار) :خداوندوعالم نے جوپ کو نعمتیںعطاکي ہيںان ميںسے کسي ايک کوبيان کريں۔
(حضرت سليمان ٴ) : خداوندعالم نے اپنے فضل وکرم سے مجھے ہواپراس طرح تسلط عطاکياہے کہ ميںاورميرالشکر اس کے دوش پردوماہ کاسفرایک دن ميںطے کرتے ہیں
(چيونٹيوںکاسردار) : کياپ جانتے ہیںکہ خداوند عالم نے ہواکوکيوںپ کي سواري بناياہے ؟
(حضرت سليمان) : تم بتاو۔
(چيونٹيوںکاسردار) : اس کامقصد يہ ہے کہ دنياکي سلطنت اورجوکچھ پ کوعطاکياگياہے اس کاقوام ہواپرہے ۔اورجس چيزکاقوام ہواپرہووہ پايدار نہيں رہ سکتي اورجوپايدارنہ ہووہ ان چيزوںسے دلبستگي نہيںکرتا۔
حضرت سليمان چيونٹي کي اس نصیحت کے بعدبارگاہ رب العزت ميںحاضرہوئے اورفرمايا’’خدايامجھے ان نعمتوںپرشکرکي توفیق عطافرماکہ جومجھے اور ميرے ماںباپ کوعطاکي ہیںاورمجھے نيک اعمال کرنے کي توفيق عطافرمااورمجھے اپنے لطف وکرم کے زيرسايہ خاص اورشائستہ بندوںميںشامل کر دے ‘‘۔