قرآن اور اردو ادب ( اردو ادب ميں تذکرہ قرآن )

 ( سید ضيغم عباس )

کہاجاتاہے کہ’’ہرزبان کانقطہ کمال اس کي شاعري ہے ‘‘يہ ايک زندہ حقيقت ہے کہ شاعري ہي سے زبان کامعيارمعلوم ہوتاہے ۔

ان تمام باتوں کے باوجوديہ ایک زندہ وپائندہ حقيقت ہے کہ عربي زبان کانقطہ کمال شاعري نہيںقرن مجيد کا سحر انگیز نثر ہے ۔
قرن مجيدنے نہ صرف عربي زبان کومتاثر کيابلکہ دنياکي تمام زبانوںکوحيرت انگيز طو ر پر متاثر کياہے ۔اس تاثر سے اردوزبان بھي نہيںبچ سکي ۔ اردوکے جنم سے ليکر ج تک قرن مجيدنے اس زبان کوبہت کچھ دياہے ۔اردو شاعروں اور ادیبوں نے قرن مجيدکي فصاحت وبلاغت کوبہت ہي اہميت دي ہے ۔جابجانثرونظم ميںقرن مجيدکے اثرات دکھائي ديتے ہیں۔ مثال کے طورپرجوش مليح بادي نے ميرانيس کي تعريف ميںچندمسدس کہے ہیںجن ميں ميرانيس کي شاعري اورفصاحت و بلاغت کو قرن مجيدسے تشبيہ ديتے ہوئے انکے کلام کو اردو زبان کاقرن قراردياہے ۔جوش فرماتے ہيں
اے دیارلفظ ومعني کے رئيس ابن رئيس
اے امين کربلاباطل فگاروحق نويس
ناظم کرسي نشيںوشاعريزاںجليس
عظمت ل محمدٴکے مورخ اے انيس
تيري ہرموج نفس روح الاميںکي جان ہے
توميري اردوزباںکابولتاقرن ہے ١
يہاںسے يہ بات نيلگوںسمان کي طرح صاف اورواضح ہوجاتي ہے کہ جوش جيسا صاحب نظر اورزادفکروطبيعت کاشاعربھي قرن مجيدکي فصاحت وبلاغت سے متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکا۔اسي لئے ميرانيسکي شاعري اورزبان کي فصاحت وبلاغت اسلوب بيان اورطرز اداکوصرف اورصرف قرن سے تشبيہ دي جاتي ہے حالانکہ جوش کے وسيع مطالعہ کے پيش نظر شيکسپئرجارج برنارڈشا ياديگر زبانوں کے فصيح وبليغ شعرائ کے کلام سے تشبيہ دے سکتے تھے ۔
اس کے علاوہ جوش نے ایک جگہ امام حسين ٴ کے سينے کوقرن سے تعبيرکياہے ۔فرماتے ہیں
زباںرکھي جاتي تھي خسروي قرن پر
علامہ اقبال نے بھي اپني فارسي مثنوي کے ایک مصرعہ ميںامام حسين ٴسے رمزقرن سيکھنے کي بات کي ہے فرماتے ہیں
رمزقرن ازحسين ٴموختم ٢
رموز بے خودي کے شرح نگارجناب يوسف سليم چشتي نے لکھاہے کہ ’’ميںنے ایک دفعہ حضرت اقبال سے دريافت کياکہ رمزقرن سے پ کي مرادکياہے ؟توانھوںنے جواب دياتھاکہ ’’تعليمات قرن کي روح يہ ہے کہ باطل کامقابلہ کرنے کيلئے ہروقت سربکف اوراگرضرورت ہوتوجان دينے سے بھي دریغ نہ کرو‘‘۔
اردومرثیہ کي تاريخ ميںدلورام کوثري پہلا مرثيہ نگار ہے جس نے قرن اور امام حسين ٴکو اپنے مرثيے کا موضوع بنايا ہے ۔ کم و بيش ١٩١٥ئ ميں يہ مرثيہ کہا گيا ۔ يہ وہي زمانہ ہے جب اقبال کي شاعري اپنے عروج کي طرف رواں تھي ۔ دلو رام کوثري نے اپنے ٧٧ بندوں ميں قرن اور امام حسين ٴکے تعلق سے بحث کي ہے ۔وہ قرن ناطق اورقرن صامت کوساتھ ساتھ ليکرچلے ہيںجس کانقطہ کمال يہ ہے ۔
ان دونوںپرتمام فضائل تمام ہيں
دونوںيہ بوسہ گاہ رسول انام ہیں ٣
ان کے بعدحضرت نسيم امروہوي بيسويںصدي کے دوسرے مرثيہ نگارہيں جنھوںنے قرن اور حسین ٴکے عنوان سے طويل مرثیہ کہاہے۔قرن مجيدکے اثرات صرف شاعري تک ہي محدود نہيںہيں ، بلکہ نثرميںبھي جلوہ نمائي کرتے نظرتے ہیں ۔ اردو کے صاحب طرزوناول نگار،ماہرفنکارجناب ڈپٹي نذيراحمد صاحب نے اپني ناولوںکے نام قرن مجيد سے مستعار الفاظ وتراکيب پررکھے ہیں۔انکي ايک ناول کانام ’’توبہ نصوح‘‘ہے ۔يہ ناول پند و نصيحت سے مملوہے، اس کے علاوہ اوربھي بہت سي کتابوں اور ناولوںکے نام قرن مجيد سے مستعارلئے گئے ہیں جن کاتذکرہ ئندہ تفصيل ميں کيا جائے گاج کے دورميںبھي قرن مجيداوراردو ادب کے رشتے کو مضبوط کرنے کيلئے مختلف تنظيميں فعاليت انجام سے رہي ہیں۔مختلف سيمينارہورہے ہیں۔جن ميں سب سے نماياںاورمنفردنام ’’انجمن معين العزا‘‘ رجسٹرڈ کراچي کاہے ۔يہ انجمن دوسرے مذہبي پروگرام کے انعقادکے ساتھ ہي نئے طرزپر’’محفل مدحت قرن ‘‘کے عنوان سے ايک مشاعرہ ہرسال منعقدکرتي ہے ۔ جس ميںبلاتفريق ملت ومسلک ہرمکتب فکرکے شعرائ حضرت شريک ہوتے ہیںاورقرن مجيدکي مدحت ميں اشعار پيش کرتے ہیں۔قرن مجيداور اردوادب کے رشتے کومحکم اورمضبوط کرنے کيلئے يہ بہت ہي موثر اور کليدي کردارہے ۔
انشائ ا?ئندہ اس عنوان پرمزيد وضاحت کے ساتھ روشني ڈالي جائے گي ۔اس دعا کے ساتھ کہ ايسي ’’تنظيميں‘‘ہرجگہ ہوں،اوراس طرح کا کردار اپنائيں تاکہ قرن مجيدکواردوسے بالکل قريب کيا جاسکے۔
١) رسالہ باب شہر علم لکھنو ص ٤ ، میر انيس کے حضور بابت شوال تا ذوالحجہ ، جنوري تا مارچ ٢٠٠١
٢) مثنوي رموز بے خودي ( علامہ اقبال )
٣) قرآن اور امام حسين ٴ دلورام کوثري