لطاءف قرآنی

بہلول
 

منھ توڑ جواب
 ايک مرتبہ جناب عقيل بن ابي طالب معاويہ کے دربار ميں بيٹھے ہوئے تھے ،دربار شام ، عراق اور حجاز کي بڑي بڑي شخصيتوں سے بھرا ہو ا تھا ، اسي دوران معاويہ طعنے کے انداز ميں بولا : کيا تم لوگوں نے (تبت يدا ابي لھب وتب )والي آيت سني ہے ؟
لوگوں نے کہا ہاں !
معاويہ بولا : يہ ابي لھب عقيل کا چچا تھا ؛
جناب عقيل نے منھ توڑ جواب ديتے ہوئے کہا : کيا تم لوگوں نے (وامراتہ حما لۃالحطب في جيدھا حبل من مسد ) والي آيت سني ہے ؛سب نے کہا ،ہاں . جناب عقيل بولے : يہ حما لۃ الحطب معاويہ کي پھوپھي ہے !سب لوگ ہنسنے لگے ، معاويہ کامنھ لٹک گيا !

٭٭٭٭٭

صاحب عباد ايک سچے اور عادل قاضي تھے ، ان کے زمانے ميں ايک ظالم شخص کو پاني ميں ڈبو کر موت کي سزا سنائي گئي ، کسي نے رشوت دے کر صاحب عباد کو شفاعت کے طور پر ايک خط لکھا ليکن صاحب عباد نے رشوت لينے سے انکار کر ديا اور اس کے خط کے جواب ميں يہ آيت لکھ دي ولا تخاطبني في الّذين ظلمو ا انھم مغرقون’’ جن لوگوں نے ظلم کيا ہے ان لوگوں کے بارے ميں بات بھي نہ کرو يہ لوگ ضرور غرق ہو کے رہيں گے ‘‘.

٭٭٭٭٭

امير اسماعيل کے پاس ايک منھ بولا بيٹا تھا ، ايک مرتبہ کسي مرض ميں اس کے چہرے پر چھالے پڑ گئے جس کي وجہ سے اس کے چہرے کا حسن زائل ہو گيا .
ايک دن وہ امير اسماعيل کے سامنے کھڑا تھا ، امير اسماعيل تعجب کے انداز ميں بولا ديکھو اس کا خوبصورت چہرہ چھالوں کي وجہ سے کيسا ہو گيا ہے .
وہاں موجود قاضي ابو منصور نے يہ آيت پڑھ دي لقد خلقنا الانسان في احسن تقويم ثم رددنا ہ اسفل سافلين’’ ہم نے انسان کو بھترين سانچوں ميں ڈھال کر پيدا کيا ، پھر اس سے بد ترين جگہ پلٹا ديا ‘‘ قاضي کي بات سن کر ذہين اور حاضر جواب بچے نے بر جستہ يہ آيت پڑھ دي وضرب لنا مثلاًو نسي خلقہ’’ ہميں بولي سنا تا ہے اور اپني خلقت بھول گيا‘‘ . بچے کا يہ جواب سن کر سب کھلکھلا کر ہنس پڑے ، اس لئے کہ خود قاضي بد شکل تھے !

٭٭٭٭٭

کسي نے صاحب عبادکوایک خط لکھاجو نہایت فصيح اور بليغ تھا ، جس کي عبارتيں مسجع اور مقفيٰ تھيں ، ليکن صاحب عباد نے جب اسے غور سے پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ ساري عبارتيں خود صاحب عباد ہي کي تھيں ، يہ ديکھ کر صاحب عباد مسکرادئے اور اس کے جواب ميں يہ آيت لکھ دي (ھذہ بضعتنا ردت الينا ) يہ ہماري ہي چيزيں تھيں جو ہم تک پلٹ گئيں .

٭٭٭٭٭

ايک مرتبہ محمد حسين طباطبائي ا ورآقائے قرائتي اپنے سفر حج کے دوران آپس ميں محو گفتگو تھے ، باتوں باتوں ميں محمد حسين طباطبائي نے آقائے قرائتي کے اوپر ايک آيت پڑھ دي . وہ دن گذر گيا ليکن آقائے قرائتي کے ذہن ميں يہ بات تھي کہ يہي آيت ميں بھي کسي نہ کسي دن طباطبائي کو سنا دوں گا ؛چنانچہ ايران ہي ميں کسي بات کے دوران وہي آيت آقائے قرائتي نے طباطبائي کے لئے پڑھ دي .طباطبائي يہ سن کر مسکرادئيے اور بر جستہ يہ آيت پڑھ دي ?ھذہ بضعتنا ردت الينا ?.

٭٭٭٭٭

ايک شخص دودھ ميں پاني ملا کر بيچا کرتا تھا ، اسي طرح کئي سال گذر گئے ، ايک سال ايسا سيلاب آيا کہ جو اس کے تمام اموال اور جانوروں کو بہا لے گيا ، يہ شخص سر پکڑکے بيٹھ گيا اور کہنے لگا ديکھو سيلاب نے ميرے ساتھ کيا کيا ؟
اسکے بيٹے نے کہا يہ وہي پاني ہے جسے تم دودھ ميں ملا ملا کر بيچا کرتے تھے ، وما اصابکم من مصيبۃ فمنک...جو بلائيں تم پر نازل ہوتي ہيں وہ تمہارے ہي ہاتھ کي لائي ہوئي ہيں .



لطائف قرآني ( بہلول )
١) درربار سجا ہوا تھا،شہر کے معززين اپني خاص وضع وقطع کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے،وقت کا خليفہ منصور عباسي نخوت وغرور کے عالم ميں مسند نشین تھا ؛اور حکومت وسياست کے بارے ميں بحث وگفتگو کررہا تھا لوگ مسند کے دونوں طرف حسب مراتب قطاريں لگائے کھڑے تھے ،ہر کوئي سہما ہوا ،ڈراہوا، دل ميں اس بات کا دھڑکا کہ کہیںکوئي ايسا فعل سرزد نہ ہو جائے کہ عالي جاہ کي طبيعت کو ناگوار گزر جائے ،اور ان کي شان ميں گستاخي ہوجائے ،اسي عالم ميں کہیں سے ايک مکھي ،ملک خداکي سفير بن کر اور اپنے کو منصور کي حکومت سے زاد پاکر ،بھنبھناتي ہوئي ئي اور ديکھا و نہ تاو سيدھا منصورکي ناک پر جا کر بيٹھ گئي !منصور کو اس گستاخي پر غصہ گيا،اور ايک زور کا طمانچہ مارا مکھي کو ،ليکن وہ طمانچہ مکھي کو نہيں خود اسي کو لگاکيونکہ مکھي اڑچکي تھي ! مکھي کو بھي مزہ گياچنانچہ اس نے پھر وہي کيا ، اور جب يہ عمل دوتين بار تکرار ہو امنصور نے جھلا کر کہا : ميري سمجھ ميں نہيں تا خر خدا نے مکھي کو کيوں خلق کيا ؟امام صادق ٴنے جواب دیا: ظالموں کو ذليل ورسوا کرنے کے لئے ! (ليذل بہ الجبابرۃ)
منصور نے کہا تمہیں ثابت کرنا ہوگا (قرن سے )
اس نے کہا : پروردگار عالم فرماتا ہے کہ وان يسلبھم الذباب شيئاًلايستنقذہ منہ اگرمکھي( بھي)کوئي چيزان سے لے لے تو وہ اس قدر ضعيف ہيں کہ اس سے واپس بھي نہيں لے سکتے ! منصور کھسياگيااور کہنے لگا صدق ا? العلي العظیم
(٢) مامون الرشيد کي خلافت کے دوران کسي شخص کي گرفتا ري کا حکم صادرہوا،وہ شخص بھاگ گيا ؛سپاہيوں نے اس کے بھائي کو گرفتار کر ليا اور مامون کے دربار ميں لے ئے ، مامون نے کہا :اپنے بھائي کو حاضرکرو ورنہ تمہاري گردن اڑادي جائے گي !!
اس شخص نے کہا :خليفۃالمسلمين !اگر پ کے سپاہي مجھے پھانسي دينا چاہیں اور پ کا حکم ئے کہ مجھے چھوڑدیا جائے تو کيا پ کے سپاہي مجھے چھوڑدینگے؟
مامون نے کہا : ہاں،سپاہيوںکو ہمارے حکم کي تعميل کرني ہوگي
شخص : ميںايسے بادشاہ کي طرف سے حکم لاياہوں جس کي اطاعت پ کوبھي کرني ہوگي !وہ حکم دے رہاہے مجھے رہاکردیاجائے ۔


مامون نے پوچھا :کون سابادشاہ اورکہاںکاحکم ؟
اس نے کہا : بادشاہ ،پروردگار دوعالم ہے دونوںجہان کامالک ! وہ حکم ديتاہے (لاتزر وازرۃ وزراخريٰ ( انعام ١٦٤)کوئي بھي گنہگاردوسروںکابوجھ نہيںاٹھائے گا مامون متآثر ہوااوراسے رہاکردیا۔اس طرح قرني يات ظالموںکے دلوںميںاثرکرجاتي ہیں
(٣) ابراہيم ،عباسي کالڑکا،حضرت علي ٴسے خاص دشمني رکھتاتھا۔ايک روزمامون کے پاس يااورکہنے لگا: ميںنے خواب ميںعلي ٴٴکوديکھاہم دونوںساتھ چل رہے تھے وہ ميري بہت عزت کررہے تھے ،ميںنے ان سے کہا:تم کہتے ہوکہ لوگوںکے اميرہوحالانکہ ہم لوگ امارت وخلافت کے زيادہ حقدارہیںاس پر انہوںنے کوئي خاص جواب نہيںديابس بار بار سلاماًسلاماًکرتے ہوئے چلے گئے !
مامون ہنسنے لگا اورکہاکہ :علي ٴنے تم کوبيوقوف نادان اورجاہل بنادياجوبات کرنے کے لائق نہيں ہوتا!کيونکہ خدااپنے خاص بندوںکے بارے ميںکيوںفرماتاہے ?وعبادالذين ... قالو اسلاماً براي ترجمہ مراجعہ بہ علامہ جوادي
(٤)’’اصمعي ‘‘کے کسي پڑوس نے اس سے کچھ درہم قرض لئے ،دن ،ہفتہ،مہينہ گذرجانے کے بعد جب اس نے اپناقرض واپس نہيں کيا تو اصمعي نے اس سے پوچھ ہي ليا:بھائي تمہيںوہ قرض ياد توہے نا؟
اس نے کہا :ہاں!ہاں!کياتم مجھ پر بھروسہ نہيںرکھتے؟
اصمعي نے کہابھروسہ تو ہے !حضرت ابراہيم ٴ کوبھي خداپربھروسہ تھاليکن حضرت ابراہيم ٴ نے بھي کہا يہ معجزہ کرکے دکھا توخدانے کہااولم تومن (کياتم ايمان نہيںرکھتے)؟توحضرت ابراہيم ٴنے فرمايا: بليٰ ولکن ليطمئن قلبي (کيوںنہيںليکن چاہتاہوںميرادل مطمئن ہو جائے)۔
(٥)ايک روزايک بدونماز جماعت پڑھنے گيا،پيش نماز نے سورہ حمدکے بعد سورہ بقرہ پڑھناشروع کردي کھڑے کھڑے شخص کي حالت غير ہوگئي،ليکن کسي طرح برداشت کرلے گياپيش نماز نے دوسري رکعت ميںسورہ حمد کے بعد سورہ فیل پڑھنا شروع کيا ،شخص گھبراگيااورکہنے لگاسورہ بقرہ اتني بڑي سورہ تھي سورہ فيل کتني بڑا ہوگا ،يہ سوچ کرجھٹ فراديٰ کي نيت کي ،اوروہاںسے بھاگ گیا۔