ز
مانہ قديم کے بعض فلسفي يہ دعوا کرتے تھے کہ جہان ’’قديم‘‘ہے، يعني
ازلي اور ہميشہ سے ہے اورحادث نہيں ہے ۔ايسے افراد کو ’’ دہريہ‘‘ کہا
جاتا تھا۔حتيٰ کہ زمانہ جاہليت کے عربوں کے درميان بھي يہ نظريہ پايا
جاتا رہا ہے :
’’
وقالوا ماھي الا حياتناالدنيا نموت و نحیي وما يھلکنا الا
الدھر...‘‘اور وہ لوگ کہتے ہيں کہ يہ صرف زندگاني دنيا ہے اسي ميں مرتے
ہيں اور جيتے ہيں اور زمانہ ہي ہم کو ہلاک کر ديتا ہے اور انہيں اس بات
کا کوئي علم نہيں ہے کہ يہ صرف ان کے خيالات ہيں اور بس‘‘(١)
ليکن
آج فلسفہ و سائنس کي ترقي نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ جہان مادي’’ قديم ‘‘
نہيں ہو سکتا اور ساتھ ہي ساتھ يہ بھي ثابت کيا کہ اسکي علت بھي مادي
نہيں ہو سکتي کيونکہ جو کچھ مادي ہے وہ ’’ ممکن‘‘ ہے ( يعني ہو سکتا ہے
کہ موجود ہو جائے اور ہو سکتا ہے موجود نہ بھي ہو)علت جہان فقط ماورائے
ممکن يعني ’’واجب‘‘(ضروري) ہي ہو سکتي ہے حتيٰ سائنس ،فلسفے سے دو قدم
آگے بڑھ کر اس بات کي قائل ہے کہ موجود(موجود مادي) کو ازلي مان لينا
لغو اور لايعني ہے، ہر وہ شي جو اس کائنات ميںہے بلکہ خود کائنات بھي
ايک آغاز اور ايک مبدائ رکھتي ہے۔
حالانکہ سائنس، کائنات کو حادث تصور کرتي ہے، ليکن نہ خلقت کائنات کي
منکر ہے اور نہ حامي۔ دوسرے الفاظ ميں خلقت کائنات ايک نظريہ فلسفي اور
عقيدہ ديني و اعتقادي ہے، ممکن ہے سائنس کي
Big
bang Theoryايک
سائنسي نظريہ کي تشريح يا عقيدہ خلقت ہو۔ جيسا کہ بعض فلاسفہ اور اکثر
اديان دعويٰ کرتے ہيں۔
Big
bang Theoryيعني
پہلا عظيم دھماکہ جس کے نتيجہ ميںيہ کائنات وجود ميں آئي۔ جو کچھ بھي
ہو فقط اس کائنات کے وجود ميں آنے کي کيفيت کو بيان کرتا ہے نہ اس کي
علت کہ
Big
bang Theoryاب
سے دس سے تيرہ ارب برس قبل وقوع پذير ہوا ہے۔ زمين کو عالم وجود ميں
آئے ہوئے تقريباً چار ارب چھو سو ملين سال گزر چکے ہيں، انسان و حيوان
کا وجود بيس لاکھ برس سے کم پرانہ ہے۔ موجودہ انسان کي مانند ايک با
شعور انسان فقط سو سے ايک سو بيس ہزار برس قبل لباس وجود زيب تن کر سکا
ہے۔تاريخ تمدن اور تہذيب و فرہنگ انساني صرف دس ہزار برس پراني ہے۔
کھيتي جو زمانہ جديد سنگ ميں شروع ہوئي ہے تقريباً نو ہزار برس پہلے
معرض وجود ميں آئي ہے(ہم اپنے اس مضمون ميں ايک بار پھر کھيتي کي طرف
بازگشت کريں گے)کائنات يا کم از کم منظومہ شمسي ايک مرتب و منظم نظام
کے تحت رواں دواں ہے۔
قرآن
کريم کے مطابق چاند، سورج، اور ستارے سبھي فرمان الٰہي کے تابع ہيں۔خدا
وند عالم نے
Nature
(طبيعت) کو ايک مرتب و منظم نظام کے تحت خلق فرمايا ہے يعني واضح طور
پر عياں ہے کہ ہماري اس زمين پر شب و روز اور ماہ و سال ايک عجيب وغريب
نظام کے تحت ہميشہ تکرار کرتے رہتے ہيں۔ کائناتي اور طبيعي نظام اس حد
تک منظم و منسجم ہے کہ بسا اوقات کائنات کو بجا طور پر’’ ساعت ‘‘سے
تشبيہ دے دي جاتي ہے۔ نظام کائنات کا يہي نظم و ترتيب ايک گروہ ے مادي
اور طبيعت پرست ہونے کا باعث بن گياہے جس کي طرف اشارہ کيا جاچکا ہے۔
دوسري
طرف ہم ديکھتے ہيں کہ سائنس يا علوم طبيعي تجربيات اور تحقيقات کي بنا
پر عالم وجود ميں آتے ہيںيعني نظم و ترتيب قانون اور ہم آہنگي کو کشف
کر کے مذکورہ علوم يا سائنس آج اس مقام تک رسائي حاصل کر سکے ہيں کہ
ہزاروں لاکھوں برس بعد رونما ہونے والے چاند يا سورج گہن کي پيشين گوئي
کر سکيں فطرت کا يہ نظام جو اصطلاحاً رابطہ علي (علت و معلولي )
پر
مبتني ہے ،گزشتہ اور موجودہ بعض افراد کے لئے اس توہم کا باعث بن گيا
ہے کہ وہ بادل،ہوا ،چاند،سورج،و آسمان کو خود مختار آزاد اور فطرت کے
لئے علت العلل قرار دے بيٹھے ہيں يہ افراد فطرت کے کچھ پہلوؤں پر تحقيق
کرتے ہيں اور پھر نتيجہ اخذ کر ليتے ہيں مثلا يہ ديکھتے ہيں کہ بارش و
ہوا کس طرح وجود ميں آتي ہے ،ہزاروں برس قبل پہاڑوں پر کس طرح مٹي کے
ذرات پيدا ہوئے تھے يا پھر مٹي اور پاني کي آميزش سے کيا ہوتا ہے... ان
کليات اور تجربات کے تحت يہ فرض کر ليتے ہيں کہ جو کچھ ہے بس يہي سب
عناصر ہيں ۔ان سب کي آميزش ہي نئے نئے گل کھلاتي رہتي ہے۔
دوسرے
الفاظ ميں ،يہ دہريے يا مادي نظريے کے حامل فلسفي حضرات، فطرت و کائنات
سے فقط ظاہر کو ديکھ کر نتائج اخذ کر ليتے ہيں ليکن ہم مسلمان قرآن
کريم سے الہام ليکر يہي عقيدہ اور نظريہ رکھتے ہيں کہ بارش کے پاني کو
خداوند عالم اپنے حکم و رحمت سے اپنے بندوں کے حق ميں ايک نعمت کے طور
پر آسمان سے نازل کرتا ہے تاکہ اسکي زندگي کا سازوسامان فراہم ہو
سکے۔وہ ’’خالق الحب و النوي ‘‘(٢)ہے يعني خدا ہي ہے وہ جو گٹھلي اور
دانے کو شگافتہ کرنے والا ہے۔ہواؤں کو بھي وہي چلاتا ہے تاکہ بھاري
بھرکم بادلوں کو ايک جگہ سے دوسري جگہ اڑا کر لے جا سکيں(٣)۔بنجر اور
بيکار زمينوں کو بھي وہ ہي سر سبز اور زرخيز بناتا ہے۔(٤)
کھيتي
کي شروعات، علم بشري کا ايک بہت بڑا کارنامہ ہے۔اہل اديان کے نزديک اہم
ترين اور عظيم ترين نعمتوں ميں سے ايک نعمت ہے جو خد اوند عالم کي جانب
سے انسانوں کو عنايت کي گئي ہے ليکن تاريخ علم و سائنس عادتاً تمام
انکشافات واختراعات علمي کو با آساني بشر کي طرف منسوب کر ڈالتي ہے
يعني تاريخ علم زراعت اور کاشت کاري کو بھي انساني کارنامہ اور تخليق
تصور کر ليتي ہے۔اور ساتھ ہي ساتھ يہ زعم بھي پيدا ہو جاتا ہے کہ انسان
کاشت کاري کے لازمے،آبياري يا سنچائي کو بھي اپنے فرمان کے تحت لا سکتا
ہے۔مثلاً ايسے بادل جو بارش کے بغير آگے بڑھ جاتے ہيں انہيں اس قابل
بنايا جاسکتا ہے کہ برس سکيں يا مصنوعي بارش بھي تو کي جا سکتي ہے اور
مصنوعي بارش تو آج کل بالکل عام سي بات ہے کيونکہ بعض پسماندہ يا ترقي
پذير ممالک تک ميں مصنوعي بارش کے ذريعے عام طور پر کاشت کاري کي جا
رہي ہے اور اسطرح ان باتوں کے پيش نظر يہ فرض کر ليا جاتا ہے کہ جو کچھ
ہے يہي فطرت ہے اور بس۔
ايک
بار پھر ان قرآني آيات سے متعلق غور و خوض کيا جائے۔
’’
کيا تم نے اس پاني کو ديکھا ہے جس کو تم پيتے ہو۔اس کو تم نے بادل سے
برسايا ہے يا اس کے برسانے والے ہم ہيں۔اگر ہم چاہتے تو اسے کھارا بنا
ديتے تو پھر تم ہمارا شکريہ ادا کيوں نہيں کرتے۔
کيا
تم نے اس آگ کو ديکھا ہے جسے لکڑي سے نکالتے ہو۔اس کے درخت کو تم نے
پيدا کيا ہے يا ہم اس کے پيدا کرنے والے ہيں۔ہم نے اسے ياد دہاني کا
ذريعہ اور مسافروں کيلئے نفع کا سامان قرار ديا ہے۔‘‘(٥)
اسي
سورہ ميں مذکورہ آيات سے پہلے کاشت کاري کے بارے ميں خدا وند عالم
فرماتا ہے :’’ اس دانے کو بھي ديکھا ہے جو تم زمين ميں بوتے ہو ۔اسے تم
اُگاتے ہو يا ہم اگانے والے ہيں۔اگر ہم چاہيں تو اسے چور چور بنا ديں
تو تم باتيں ہي بناتے رہ جاو کہ ہم تو بڑے گھاٹے ميں رہے بلکہ ہم تو
محروم ہي رہ گئے۔(٦)
باوجود اسکے کہ ہم نے کہا ہے کہ کاشت کاري کي شروعات و اختراع بشري
تمدن کا اہم ترين کارنامہ ہونے کے ساتھ ساتھ،آگ کے انکشاف اور اختراع
خط، بشري تمدن اور فرہنگ انساني کیلئے وہ عظيم الشان مثلث ہے،جس کا
سہرا انسان کي صدیوں کي عرق ریزي کے سرجاتا ہے ؛ليکن اس کے ساتھ ساتھ
یہ بھي حقیقت ہے کہ ان سب کا اصل مبدائ اور خالق خداوند عالم ہي
ہے۔کسان نے کسي بيج يا دانہ کو اختراع نہيں کيا ہے بلکہ فقط کشف کيا
ہے۔پاني کو خلق نہيںکيا بلکہ فقط اس تک رسائي حاصل کي ہے۔اسي طرح مٹي
کو بھي فقط حاصل کيا ہے نہ کہ خلق۔
اصل
مسئلہ دانہ کا اُگنا ہے يعني دانہ، نشوونما کي صلاحيت و قابليت رکھتا
ہے ۔ اصل آب رواں ہے۔اصل مٹي ہے يعني يہ مٹي ،پاني،دانہ اور ہوا ہي اصل
ہيں جو آپس ميں تاثير و تاثر متقابل رکھتے ہيں۔اگر ايسا نہ ہوتا ،اگر
خدا وند عالم نے ان اشيائ کے اندر مذکورہ صلاحيتوں کو پيدا نہ کيا ہوتا
تو يہ زمين فقط ايک لق و دق ميدان رہتي جس ميں نہ پھول ہوتے نہ پھل، نہ
پاني نہ ہوا۔لہذٰا حقيقي مخترع يا کسان خدا ہے اور ہم فقط ايک وسيلہ
ہيں اور بس۔
کھيتي،پاني اور آگ جو کہ طبيعي ہيں،سے زيادہ اہم، فن اور ہنر يا
ٹيکنالوجي ہے۔جيسا کہ بيان کيا جا چکا ہے بہت سے افراد اس نظريے کے
حامي ہيں کہ حقيقي اور اصلي کسان اور طبيعت کو مسخر کرنے والا خداوند
عالم ہے ليکن يہ کہ فني امور بھي خداوند عالم سے مربوط ہيں۔ابھي اس ميں
ترديد کا شکارہيں۔
مثال
کے طور پر کشتي اور کشتي سازي کو ليتے ہيں۔ان افراد کے بقول کشتي اور
کشتي سازي سے متعلق فني امور، مثلاً يہ کہ لکڑي پاني ميں نہيں ڈوبتي ہے
يا ناؤ کا بنانا،اسکے بعد کشتي کا اور پھر بلند و بالا کشتيوں کي
تعمير،زمانے کي رفتار کے ساتھ ساتھ تمدن ساز اور تاريخ تمدن بشري کا
ايک جُز ہیں يعني مذکورہ فنون ميں خداوند عالم کا کوئي دخل نہيں ہے۔يہ
فنون تو وقت کے ساتھ انسان نے خود بخود حاصل کئے ہيںليکن خداوند عالم
کشتيوں کو اپني آيات اور نعمتوں ميں شمار کرتا ہے ۔فطري اور ظاہري طور
پر غورو فکر کا مقام ہے کہ کشتي در حاليکہ دست بشري کا کارنامہ ہے اس
کے باوجود خداوند عالم اسے اپني ذات سے منسوب کرتا ہے۔آخر کيوں ؟ خُدا
فرماتا ہے: ’’ اس کے وہ جہاز بھي ہيں جو دريا ميں پہاڑوں کي طرح کھڑے
رہتے ہيں‘‘۔(٧)
’’اور
اسکي نشانيوں ميں سے سمندر ميں چلنے والے بادباني جہاز بھي ہيں جو پہاڑ
کي طرح بلند ہيں‘‘۔(٨)
ايک
دوسري جگہ قرآن کريم فرماتا ہے:’’ کيا تم نے نہيں ديکھاکہ اللہ نے
تمہارے لئے زمين کي تمام چيزوں کو مسخر کر ديا ہے اور کشتياں بھي دريا
ميں اسي کے حکم سے چلتي ہيں اور وہي آسمانوں کو روکے ہوئے ہے کہ اسکي
اجازت کے بغير زمين پر نہيں گر سکتا۔اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفيق و
مہربان ہے‘‘۔(٩)
راقم
نے اپنے ترجمہ قرآن کريم ميں جو کہ حاشيہ تفسيري کا حامل بھي ہے،حاشيہ
اور اس آيت کي شرح و توضيح کے ضمن ميں، اس طرح بيان کيا ہے:’’ قرآن
مجيد ميں بار ہا کشتيوں کو انسان کي مسخر کردہ (١٠)،عظيم نعمتوں اور
آيا ت الہٰي(١١)، ميں شمار کيا گيا ہے۔حتٰي انہيں خدا کي خلق کردہ
بتايا گيا ہے۔مثلاً ’’اورتمہارے لئے کشتيوں اور جانوروں ميں سواري کا
سامان فراہم کيا ہے‘‘(١٢) اسکي توجہيہ يہ ہے کہ خدا انسان کا خالق ہے
اسي طرح مصنوعات و مخلوقات انسان کا بھي خدا ہي خالق ہے۔لہذٰا مخلوق
اور مصنوع انسان بالواسطہ مصنوع و مخلوق خداوند عالم ہو گئے۔خدا کيلئے
يہ بھي ممکن تھا کہ وہ انسان کو دوسرے حيوانات کي طرح فقط ايک ذريعہ يا
وسيلہ بنا ديتا يا اسے ان تمام صلاحيتوں اور صفات کے بغير خلق کر ديتا
جو اس ميں موجود ہيں۔اب جب کہ انسان ان تمام صفات اور صلاحيتوں کا حامل
ہے تو اسکا لازمہ يہي ہے کہ ان کي بازگشت خدا کي طرف ہو ۔جيسے کہ آج کا
انسان اگر مستقبل قريب ميں موجودہ روبوٹ سے بہترانسان نما روبوٹ يا
موجودہ کمپيوٹر سے بہتر کمپيوٹر خلق کر ليتا ہے تو يقينا اسکا سہرا اس
پہلے آدمي کے سر بندھے گا جس نے پہلي مرتبہ روبوٹ يا کمپيوٹر تخليق کيا
تھا۔
جو
کچھ مندرجہ بالا سطور ميں عرض کيا گيا ہے وہ نظريہ توحيدي ،الہٰي
اورنظريہ مادي و طبيعي کا خلاصہ تھا۔ يہ وہ خلاصہ ہے جس کے ذريعہ دوسري
بہت سي بڑي سے بڑي مشکلات ومسائل کا حل تلاش کيا جا سکتاہے ۔مثال کے
طور پر نام نہاد روشن خيال اور مغربي طر زِفکر رکھنے والے افراد نظريہ
الہي و توحيدي کي تضحيک کرتے ہوئے ايک مومن سے کہا کرتے تھے۔
’’دعا ئ يا خدا تمہيں تمہارے بخار سے نجات نہيں دے سکتے بلکہ تمہارے
بخار کا مداوا صرف
ANTI BIOTICہي
سے ہو سکتا ہے۔ ‘‘
اسکا جواب يہ ہے کہ خداوند عالم الفاظ وکلام کے ذريعے نظام کائنات کو
نہيں چلاتا ہے بلکہ وہ اسباب اور ذرايع پيدا کرتا ہے اور ان کے ذريعے
اس طويل و عريض کائنات کے عظيم الشان نظام کو چلاتا ہے۔
يہ اسباب يا ذرايع بہرحال کچھ بھي اور کيسے بھي ہو سکتے ہيں۔ کبھي فقط
ايک کلمہ ’’ کن‘‘ ايجاد اور تخليق کا باعث بن جاتا ہے اور کبھي ملائکہ
يا موجودات غيبي يا پھر طبيعي عناصر يا موجودات۔ANTI
BIOTIC بھي بالواسطہ خدا کي تخليق کردہ ہے۔
خدا نے بجائے اسکے کہ براہ راست
ANTI BIOTIC
خلق کرتا،انسان اور ايسے ذہن کو خلق کر ديا جس ميں ANTI BIOTIC
کے خلق کرنے کي صلاحيت موجود تھي۔غير از ايں، خدا نے انسان کو براہ
راست اسي مٹي اور پاني سے خلق کيا ہے۔
اس روشني ميں ہم قرآن کريم کي بہت سي عميق اور مشکل آيتوں کو باآساني
درک کر سکتے ہيں سورہ رحمن کے آغاز ميں فرمايا گيا ہے ’’۔۔۔ خلق الا
نسان۔علمہ البيان۔‘‘ انسان کو پيدا کيا اور اسے بيان سکھايا ۔ يہاں بھي
ارادہ خدا اور انسان کي سيکھنے کي صلاحيت کے درميان ذريعہ تلاش کرنا
پڑيگا۔خدا نے بغير کسي واسطہ يا ذريعے کے کسي کو سخن گوئي نہيں سکھائي
ہے ليکن ذہن انسان اسطرح خلق کيا ہے کہ مشہور ومعروف مغربي
زبانشناس’’چامسکي‘‘کو کہنا پڑا کہ انساني ذہن کے اندر زبان سيکھنے کي
صلاحيت اس طرح ہے جيسے اسے اسي ہدف کے تحت خلق کيا گيا ہے۔
يا پھر سورئہ علق ميں فرماتاہے:’’ اقرا و ربک الا کرم الذي علم
بالقلم‘‘۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کريم ہے۔جس نے قلم کے ذريعے
تعليم دي۔يہاں بھي ظاہر ہے کہ خدا نے بغير کسي ذريعے کے قلم کسي کے
ہاتھ ميں نہيں ديا ہے۔اس نے انسان کو علم دوست و طالب علم اور تمدن
سازو فرہنگ ساز بنا کر بھيجا ہے يعني اس نے ان تمام صلاحيتوں اور قوتوں
کو ذہن انساني کے حوالے کر ديا ہے جو بروقت اور بر محل انسان کو منزل
مقصود تک پہونچاتي رہتي ہيں۔
(١)۔جاثيہ۔آيت۔٢٤ (٢)۔انعام۔آيت ٩٥ (٣) رعد۔١٣۔اعراف۔٥٧(٤) روم۔٢٤(٥)
واقعہ۔ ٦٨۔٧٣(٦)واقعہ ۔٦٣۔٦٧ (٧) رحمٰن۔٢٤(٨) شوريٰ۔٤٢(٩)حج۔٦٥(١٠)
ابراہيم۔٣٢(١١) لقمان۔ ٣١،شوريٰ۔٣٢ (١٢) زخرف ۔١٢(١٣) ونيزرحمن۔٢٤،
اسرار۔٦٦(١٤) قرآن کريم ترجمہ بہاالدين خرمشاہي ’’ ص۔٣٤٠۔ذيل آيت ٦٥
حج‘‘